8 جون 2014 - 12:45
بجٹ زندہ انسانوں کیلئے ہوتا ہے ملک تو قبرستان میں تبدیل ہوچکا، علامہ ساجد نقوی

بجٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے سربراہ اسلامی تحریک نے کہا کہ بجٹ ایسا پرکشش نہیں کہ کہا جائے آسمان سے تارے توڑکر لائے گے ہیں، جہاں سٹیٹس کو کی حکمرانی ہو، وہاں اسطرح کے بجٹ ہی کی توقع کی جاسکتی ہے۔

ابنا: شیعہ علماء کونسل پاکستان کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا ہے کہ بجٹ 2014ء میں عوام کی مشکلات کا ازالہ نہیں کیا گیا، صرف لفظوں کا الجھاؤ اور روایتی بجٹ ہے، ایک جانب منہ زور مہنگائی، ٹیکسوں کی بہتات اور دوسری جانب چند فیصد اضافہ افسوسناک، ایسا پرکشش بجٹ نہیں کہ کہا جائے کہ آسمان سے تارے توڑ کر لائے جا رہے ہیں، بجٹ زندہ انسانوں کیلئے ہوتا ہے ملک تو قبرستان میں تبدیل ہوچکا، آئین و قانون کی عملداری کہاں ہے؟ قاتلوں کو چھوڑا کر یکطرفہ ٹریفک چلائی جا رہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بجٹ 2014-15 پر تبصرہ کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ بجٹ 2014-15 میں کسی طور بھی عوام کی مشکلات کا ازالہ نہیں کیا گیا صرف لفظوں کے ہیر پھیر میں قوم کو الجھایا گیا ہے۔ روز بروز مہنگائی بڑھ رہی ہے جو لگتا ہے مزید بڑھے گی اور ٹیکسوں میں بہتات میں چند فیصدی تنخواہوں میں اضافے سے عوام کی مشکلات کیونکر ختم ہوسکتی ہیں، یہ ایسا پرکشش بجٹ نہیں کہ کہا جائے کہ آسمان سے تارے توڑکر لائے گے ہیں، جہاں سٹیٹس کو کی حکمرانی ہو وہاں اس طرح کے بجٹ ہی کی توقع کی جاسکتی ہے۔

علامہ ساجد نقوی نے مزید کہا کہ بجٹ زندہ انسانوں کیلئے ہوتا ہے مگر ملک تو قبرستان میں تبدیل ہوچکا ہے۔ سزائے موت کو معطل کر کے دہشت گردوں کو چھوٹ دی گئی ہے، آئے روز بے گناہ لوگ قتل ہو رہے ہیں جبکہ قاتل سرعام دندناتے پھر رہے ہیں اور جیلوں میں قید مسلمہ قاتلوں کو چھوڑ کر یکطرفہ ٹریفک چلائی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین کی بالادستی کا نعرہ لگانے والے آج کہاں ہیں، جب آئین کی اکثر شقوں کو معطل کر دیا گیا ہے جبکہ قانون کی حکمرانی کے بلند و بانگ دعوے کرنیوالے آج کہاں گم ہوگئے ہیں، کیونکہ ملک میں قانون نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ عوام کے اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کیلئے نت نئے ڈرامے رچائے جا رہے ہیں۔

.......

/169